8اکتوبر 2005ء سے مظفرآباد باغ اورراولاکوٹ کی سڑ کیں زمانہ قدیم کی یاد دلا رہی ہیں ان تین بڑے شہروں کاکوئی پرسان حال نہیں ماسٹرپلان کے نام پر اے ڈی پی میں بھی پانچ سال سے ان علاقوں کو شامل نہیں کیاگیا سالانہ بجٹ اورسڑکوں کی فٹنس کاپیسہ بھی دیگرشہر وں کو منتقل کیاجاتارہا جس سے سڑکیں اورگلیاں آج کھنڈرات کامنظرپیش کررہی ہیں نہ تو نارمل بجٹ اورنہ ہی کسی دوسری مد میں سے ان سڑکوں پرکوئی اخراجات کئے گئے ہرکام ماسٹرپلان کے نام پربند ہے عوام کے صبرکا پیمانہ لبریز ہورہاہے